MOJ E SUKHAN

کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہو

غزل

کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہو
کہیں ملے ہیں محبت کو سائبان کہو

نہ گل کہو نہ ستارہ کہو نہ جان کہو
میں ایک لمحہ ہوں مجھ کو فقط گمان کہو

جو صورتیں نظر آتی ہیں خواب ہستی میں
وہ اصل میں کبھی ہوتی ہیں مہربان کہو

میں منفرد تو نہیں ہوں مگر تمہارا غم
پلک تک آنے نہ دوں مجھ کو راز داں کہو

وہ ایک شخص کہ جو حاصل محبت ہے
اسی کو وقت سخن حاصل بیان کہو

جو لوح دل پہ ہیں محفوظ چند تحریریں
انہی حروف میں الفت کی داستان کہو

ہزار طرح تو ہم لوگ آزمائے گئے
اب اور کون سا رہتا ہے امتحان کہو

سواد شام میں شاعر مزاج لوگ اگر
فسردہ دل نظر آئیں تو شادمان کہو

نسیمؔ صبح طرب جب چمن میں تم آؤ
گلوں کی تازہ مہک کو خدا کی شان کہو

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم