MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جو اِک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

وہ جو اِک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے
نرم لہجہ کبھی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے کہ چاہت میں وہ سینے سے لگے
اِس لپٹنے کا سبب ڈر بھی تو ہو سکتا ہے

دُور سے پھول جسے آپ نے بھجوائے ہیں
آپ سے مِل کے وہ بہتر بھی تو ہو سکتا ہے

ہم جسے آپ کے آنچل کی جھلک سمجھے ہیں
کوئی خوش رنگ سا منظر بھی تو ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے کہ دروازے پہ پتھر ہی لگے
دیکھ باہر تِرا نیّرؔ بھی تو ہو سکتا ہے

شہباز نیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم