MOJ E SUKHAN

یگانگی میں بھی دکھ غیریت کے سہتا ہوں

یگانگی میں بھی دکھ غیریت کے سہتا ہوں
چمن میں سبزۂ بیگانہ بن کے رہتا ہوں

تری نگاہ محبت کا آسرا پا کر
فسانۂ ستم روزگار کہتا ہوں

عظیم دھاروں کا رخ پھیرنے کا عزم لیے
حقیر موجوں پہ تنکے کی طرح بہتا ہوں

ہے اپنے ظرف کا مقصود امتحاں شاید
ترے قریب پہنچ کر بھی دور رہتا ہوں

خود اپنے سے بھی چھپایا ہے مدتوں جس کو
قریب آؤ کہ تم سے وہ بات کہتا ہوں

تمہارے بس میں نہیں میرے زخم کا مرہم
میں زندگی کے حقائق کی چوٹ سہتا ہوں

فراز دار بھی حرمتؔ ہے ایک منزل اوج
کوئی مقام ہو میں سر بلند رہتا ہوں

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم