MOJ E SUKHAN

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

غزل

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ
بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ

انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل
دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ

کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں
راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ

لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو
بک رہے ہیں اب صحافی بیسواؤں کی جگہ

کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ
غیر ہوتے کاش جالبؔ آشناؤں کی جگہ

حبیب جالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم