Main apni wafaoon ka aur is say sila mangoon
غزل
میں اپنی وفاؤں کا اور اس سے صلہ مانگوں
جب تجھ سے نہیں مانگا انسان سے کیا مانگوں
آتا ہے مرے آ گے ہر لمحہ سزا بن کر
کس حوصلئہ دل پر جینے کی دعا مانگوں
اک عمر پہ بھاری ہے یہ لمحہ مسرت کا
پھر کیوں نہ میں کلیوں سے جینے کی ادا مانگوں
یوں تو تری رحمت کی کچھ حد ہی نہیں لیکن
مجرم ہوں اگر تجھ سے دامن سے سوا مانگوں
سنتے ہیں قیامت میں بچھڑوں کا مِلن ہوگا
آئے گی قیامت کب کب تک میں دعا مانگوں
تقدیر تو کاتب کی پابند ہے خود سنبل
مجبور سے کیا چاہوں لاچار سے کیا مانگوں
صبیحہ سنبل
Sabiha Sunbal