MOJ E SUKHAN

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

غزل

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات
شاہ معشوقاں کے آگے کیا ہے یہ ایتی بساط

کیوں نہ دوڑے تب دوانا ہو کے مجنوں دشت کوں
جب لکھی ہو عاشقاں کی شاخ آہو پہ برات

جھلجھلاتی ہے مہیں جامے سیں تیرے تن کی جوت
ماہ کا خرمن ہے اے خورشید رو تیرا یوگات

سو گرہ تھی دل میں میرے خوشۂ انگور جوں
ایک پیالے سیں کیا ساقی نیں حل مشکلات

کچھ کہو یکروؔ پیا در سیں ترے ٹلتا نہیں
بوجھتا ہے ایک یہ گھر جانتا نہیں پانچ سات

عبدالوہاب یکرو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم