MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھڑا جوڑا گندھی بالوں کی چوٹی

غزل

کھڑا جوڑا گندھی بالوں کی چوٹی
دوپٹا زعفرانی زرد کوٹی

شکستہ دل کے اندر تیاگ کی دھن
پھٹی پتلون کے نیچے لنگوٹی

رسیلے لب وہی بنسی کے اوپر
سجیلی چھب وہی کالی کلوٹی

بچھڑ مت یوں کہ دل تجھ کو بھلا دے
کسک رہنے دے کچھ تو چھوٹی موٹی

نہیں ایسے نہیں ہٹ چھوڑ مجھ کو
تری نیت طبیعت سے بھی کھوٹی

میرے اجداد بھی حملوں میں یکتا
مرا بچہ بھی کھیلے لے کے سوٹی

رتیں لوٹیں نہ وہ لوٹا نگر میں
چرانے شہد مکھن ساگ روٹی

نصیب اس کے گگن سے بھی کشادہ
لکیریں ہاتھ کی سب چھوٹی چھوٹی

سکھی چمنی پہ چڑیوں کا وہ جوڑا
کرے اک دوسرے کی تکہ بوٹی

ناصر شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم