MOJ E SUKHAN

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں

ان کی آمد سے جو ارمان مچل جاتے ہیں
خود بخود راہ کے آثار بدل جاتے ہیں

ہم تو ان لوگوں میں شامل ہیں ہمارا کیا ہے
جو امیدوں کے سہارے ہی بہل جاتے ہیں

میری آنکھوں میں ترے ہجر کے آنسو ہیں جمے
وہ مرے جذبوں کی حدت سے پگھل جاتے ہیں

صبح صادق کی طرح اجلے ہیں جذبے ان کے
جو برے وقت میں گر کے بھی سنبھل جاتے ہیں

ایسا انسان کہ جس کا کوئی غم خوار نہ ہو
ایسے انسان کو حالات نگل جاتے ہیں

میری آنکھوں سے بھلا خشک ہوں آنسو کیسے
کیا کبھی چھوڑ کے پانی کو کنول جاتے ہیں

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم