MOJ E SUKHAN

اک انفعال کو طاقت سمجھ رہے ہو تم

غزل

اک انفعال کو طاقت سمجھ رہے ہو تم
سوال یہ ہے کہ کس طرح سوچتے ہو تم

بہار آگ نہ دے گی تمہارے چولہوں کو
یہ اور بات کہ اس سے بہل گئے ہو تم

دیار وہم و گماں میں نہ اب حرم ہے نہ دیر
اجڑ چکی ہے وہ بستی جدھر چلے ہو تم

دیا نہ عشق نے جب کچھ تو عقل کیا دے گی
اب اس سے مانگتے ہو چین باؤلے ہو تم

جبین شوق کو اپنی کہاں جھکانا تھا
کہاں جھکی ہے ضرورت کہاں جھکے ہو تم

پسند آئے گی کیوں اپنے دیس کی کوئی چیز
بدیسیوں کے نوالے پہ جی رہے ہو تم

نہ مل سکا جسے ایندھن جلے گی آگ وہ کیا
دل جمیلؔ کو ناحق کریدتے ہو تم

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم