ایک دو تو وہ نہیں سارے کے سارے دور ہیں
جو بہا لے جائیں مجھ کو ، عشق دھارے دور ہیں
اس لئے چھوڑوں نہیں میں ان کناروں کو ابھی
جس طرف جانا ہے مجھ کو ، وہ کنارے دور ہیں
جو نگاہوں کے قریب اور میرے دل کے ہیں قریب
چھونا چاہوں جو انھیں میں، وہ نظارے دور ہیں
زندگی میں ہم سفر بس ایک ہے کافی مجھے
مجھ کو پروا ہی نہیں کتنے سہارے دور ہیں
یہ تعلق بھی کوئ کم تو نہیں میرے لئے
روشنی نزدیک تر ہے اور ستارے دور ہیں
پیاس بجھنے میں نہیں ہے اسلئے مشکل کوئ
میٹھے دریا پاس ہیں اور جو ہی کھارے دور ہیں
کاغذی پیکر بھی میرا اس لئے محفوظ ہے
جو جلا دیں شازیہ اکبر شرارے، دور ہیں
شازیہ اکبر