"اک داغِ نہاں اور” ۔۔۔۔۔۔ کے تخلیق کار
تحریر شجاع الزماں خان شاد کراچی
رفعت اسلام صدیقی پیشے کے لحاظ سے ایک سینئیر بینکر، اور ادبی میدان کی بات ہو تو زبان و بیان پر عبور رکھنے والے ایک پُختہ کار، سنجیدہ فکر شاعر ہیں۔
آپ نے ڈگری کالج رامپور سے۔۔۔ جو آگرہ یونیورسٹی انڈیا سے منسلک ہے۔۔ گریجویشن کیا اور ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور بینکنگ کے شعبے میں ملازمت اختیار کر لی۔۔ ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔۔۔۔ لیکن passion ادب اور شاعری ہی رہا۔۔۔اور مشقِ سخن بینک کی پُر مشقت نوکری میں بھی جاری رکھی۔
رفعت اسلام صدیقی کا تعلق ایک معتبر علمی و ادبی خانوادے سے ہے۔ جو علم کی روشنی سے مُنّور ادب، زبان، مشرقی تہذیب کی تاب و تواں کے حوالے سے ممتاز جانا جاتا تھا۔ مولانا حفظ الرّحمن سیو ہاروی جیسے جیّد عالمِ دین اور بلند پایہ اسلامی اسکالر، ڈاکٹر عبدالرّحمن بجنوری سیو ہاروی جیسے قد آور اسکالر، حضرت نہال سیو ہاروی جیسے منفرد اور معتبر شاعر، صدیقہ بیگم سیو ہاروی جیسی کہانی نویس ادیبہ اور ڈاکٹر خورشید الاسلام، ڈاکٹرریاض الاسلام جیسے بینش و دانش رکھنے والے اساتذہ اسی خانوادے کے روشن چراغ تھے۔ یہی روایت اور ادب شناسی خورشید الاسلام صدیقی سے ہوتی ہوئی۔۔۔۔
اک داغِ نہاں اور ۔۔۔۔ کے خالق رفعت اسلام صدیقی تک جا پہنچتی ہے۔
قارئینِ چہرہ کتاب! رفعت اسلام صدیقی سے میری شناسائی اور ملاقاتوں کا سلسلہ گزشتہ پانچ برسوں پر محیط ہے۔ ان کی سادہ لوحی اور عاجزانہ طبیعت کا اندازہ لگائیے۔۔۔ کہ اپنے خانوادے اور اس تعلقِ اعزاز و افتخار کو آپ نے کبھی بر سبیلِ تذکرہ بھی آشکار نہیں کیا۔ مندرجہ بالا سطور میں دی گئی تفاصیل ۔۔۔۔۔۔
(پروفیسر ڈاکٹر) پیرذادہ قاسم صاحب کے مضمون میں درج ہیں۔ جو ڈاکٹر صاحب نے اک داغِ نہاں اور۔۔۔۔۔ کے فلیپ پر رقم کی ہیں جو آجکل میرے زیرِ مطالعہ ہے۔
پیزادہ قاسم صاحب رفعت اسلام کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوۓ لکھتے ہیں۔۔۔۔۔
” نسلوں کے درمیان روایت اور تہذیب اسی طرح سفر کرتی ہے۔۔۔۔۔ اب اگر بینکنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے رفعت اسلام صدیقی کے جذبات بہ زبانِ شعر اظہار طلب ہو جائیں تو حیرانی نہیں ہو گی۔ رفعت صدیقی نے انہماک سے شعر کی طرف توجہ رکھی اور اس شعلے کو سرد نہیں پڑنے دیا۔ انھوں نے شعر لکھے اور عمدہ شعر نکالے۔ شعر میں روایت کی پاسداری کی مگر روائیتی موضوعاتی حصار سے باہر بھی قدم رکھتے چلے گئے۔
ان کے کلام میں ندرت اور دلپزیری اسی سبب ہے اور خوب ہے۔۔۔
آپ کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کے لئے چند اشعار نقل کرتا ہوں:
کیا عجب دور ہے ہر شخص سے خوف آتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی ہمارا نہیں ہے
اُس کے دروازے تک آیا ہوں نہ دستک دی ہے
اس کو چاہا ہے مگر اس کو پکارا نہیں ہے
**
وہ جو رکھتا تھا رگ و پے میں لہو کو رقصاں
قریۂ جاں میں اُسی دل کا پتہ پوچھتے ہیں "
**
بارگاہُ رسالت مآب ﷺ میں نعت کے اشعار ، تشک و اہتمام اور عقیدت بھرے لہجے میں پیش کرتے ہیں :
مصطفیٓ چشمِ کرم، چشمِ کرم، چشمِ کرم
ہر طرف رنج و الم، چشمِ کرم، چشمِ کرم
ہاں نہیں کوئی بھی اوصافِ حمیدہ ہم میں
ہاں گنہگار ہیں ہم، چشمِ کرم چشمِ کرم
عجز و گریہ مری تحریر میں آۓ تو لکھوں
مالکِ لوح و قلم، چشمِ کرم چشمِ کرم
رفعت اسلام صدیقی عمدہ اسلوب کے مالک ایک وسیع النّظر اور متائثر کن سخنور ہیں۔ جو روایت سے گہرا ربط رکھنے کے باوجود جدید رحجانات اور خوش فکر افکار کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہُنر جانتے ہیں۔
ان کے ہاں خیالات میں تنوع، فکری بصارت ، لہجے کی پُختگی اور ملاحت نے ان کے کلام کو پُر کشش بنانے میں عمل انگیزی کا کام کیا ہے۔۔۔۔ اس پر طُرّہ یہ کہ زندگی کے مشاہدات اور تجربات کا عکس اور ابلاغ کا سادگی پر مبنی سلیقہ، متوازن فنّی دروبست اشعار کو قاری اور سامع کے روبرو متائثر کُن بنا دیتا ہے۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظُر میں کہے گئے اشعار ان کے کلام کا خاصہ ہیں۔۔۔۔۔
میں یہاں اس بات کا اعادہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہDigital transformationکے دور میں میری ان تحریروں کا یہ تسلسل دراصل چہرہ کتاب کے ان قارئین کے لیے ہے جو ادبی ذوق رکھتے ہیں۔۔۔۔ اورQuick ready referenceکے طور پر محدود وقت میں صاحبانِ کمال شعرأ اور شاعرات کا تعارف حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے کلام کا Essence جاننا چاہتے ہیں۔۔ کہ یہی میڈیم اب ابلاغ کا موئثر ذریعہ بن کر ابھرے گا۔
اسی پس منظر میں رفعت اسلام صدیقی صاحب کے مُنتخبہ اشعار آپ کی بصارتوں کے لیے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:
اب تو اس شہر میں رہنا بھی گوارا نہیں ہے
یہ الگ بات کہ اس بات کا یارا نہیں ہے
**
لوگوں نے ہُنر اپنا دکھایا بھی بہت ہے
ہنستے ہوۓ چہروں کو رُلایا بھی بہت ہے
سرمایۂ جاں ہم نے بچا کر نہیں رکّھا
یہ گوہرِ نایاب لُٹایا بھی بہت ہے
چھوٹی بحر میں معنی اور مفہوم کے اعتبار سے متأثر کن شاعری
ملاحظہ کیجٔیے :
راہِ اُلفت میں کیا ملا مجھ کو
دو گھڑی کوئی آ ملا مجھ کو
دشتِ اُٖلفت کی خاک چھانی تھی
اپنا ہی نقشِ پا ملا مجھ کو
لوگ اُس کو رقیب کہتے ہیں
ایک درد آشنا ملا مجھ کو
اُس کی ُذلفوں کے سائے میں رفعتٓ
ایک سورج نیا ملا مجھ کو
رفعت اسلام صدیقی نے اپنے شہرِ سخن کوخوبیِ کمال سے آراستہ کیا ہے۔ آپ گرد و پیش کے ماحول اور منظر نامے کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں۔ اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں سلاست اور روانی کے ساتھ موضوعاتی مضامین کی کاشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ شعر میں مقصدیت کا رحجان ان کے اشعار میں نمایاں ہے۔۔۔۔ مصرعوں کی ملمع کاری اور اضافتوں کے غیر ضروری استعمال سے گریزاں رہتے ہیں :
نئی ہوا ہے نئے موسموں کا چرچا ہے
مرے جنوں کا مری وحشتوں کا چرچا ہے
اُتر رہا ہے رگ و پے میں لمس لمس کوئی
مرے لہو میں عجب گردشوں کا چرچا ہے
اُجالا اُوڑھ کے نکلے فریب دے کے چلے
زمیں پہ اب تو ان ہی سورجوں کا چرچا ہے
وہ ایک شب جو سرِ بزمِ ناصحاں گزری
اُس ایک شب میں بہت لغزشوں کا چرچا ہے
یہ انداز یہ طرزِ تخاطب اور تیور بھی دیکھیے :
وہ جو دنیا میں محبت کا بھرم ہیں ہم ہیں
ہاں وہی لوگ جو اس دور میں کم ہیں ہم ہیں
کبھی دستارِ فضیلت کبھی سنگِ دشنام
جن کے سر کار گہۂ مشقِ ستم ہیں ہم ہیں
**
نامہ و تکّلم کے سلسلے نہیں رکھتے
یوں بھی عشق کرتے ہیں رابطے نہیں رکھتے
اہلِ طُرّہ و دستار آدمی کو کیا دیتے
قد بڑے جو رکھتے ہیں دل بڑے نہیں رکھتے۔۔۔
رفعت اسلام صدیقی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور اس صنف میں انھوں نے موئثر ابلاغ کیا ہے۔ تاہم اس شعری مجموعے میں درجِ ذیل عنوانات سے ان کی قابلِ ذکر نظمیں بھی موجود ہیں:
اوپن ہارٹ سرجری، التجاۓ رقص، فنکار، غمِ روزگار، علاج، تمھارے لیے، نذر ناصر کاظمی، پہلی نظر اور دیگر۔۔۔۔
ان کی ایک نظم ملاحظہ کیجٔیے :
عرفانِ ذات ۔۔۔۔۔۔
میں کتنی صدیوں سے
روشنی بن کر
اپنے اندر اتر رہا ہوں
مگر مجھے دور تک کہیں بھی
وہ اپنا مونس نہیں ملا ہے
جو مجھ کو میرا پتہ بتا دے
تلاش جاری ہے
اور سفر بھی!
رفعت اسلام صدیقی صاحب کی کتاب میں جا بجا قابل توجہ اور چونکا دینے والے اشعار موجود ہیں۔۔۔ مگر یہاں اختصار مقصود ہے۔۔۔ بہر طور صاحبِ کتاب کی درازیٔ عمر ۔۔۔۔ اور زورِ قلم میں اضافے کی دعا کے ساتھ یہ اشعار بھی دیکھتے چلیں:
یہ جو ہم دیدۀ تر ساتھ لیے پھرتے ہیں
ایک رودادِ سفر ساتھ لیے پھرتے ہیں
ایک امید کہ مل جاۓ کہیں راہ میں وہ
بس یہی زادِ سفر ساتھ لیےپھرتے ہیں
کارواں لٹ چکا اک جان ہے باقی رفعتٓ
جو بنا خوف و خطر ساتھ لیے پھرتے ہیں
شجاع الزماں خان شاد کراچی