MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے
ابھی زمانے کا معیار آگہی کیا ہے

قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کر
یہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہے

زمیں پہ لالہ و گل آسماں پہ ماہ و نجوم
نگاہ حسن طلب کے لیے کمی کیا ہے

کمند ڈال رہا ہے جو چاند تاروں پر
خدا ہی جانے کہ تقدیر آدمی کیا ہے

نفس کی آمد و شد پر بھی اختیار نہیں
یہ زندگی ہے تو مقصود زندگی کیا ہے

وفا پرستوں سے کیوں ضد ہے اس پہ سب چپ ہیں
سوال یہ ہے کہ اس کا جواب ہی کیا ہے

عروجؔ تیرگیٔ شب کا احترام کرو
اسی سے تم نے یہ جانا کہ تیرگی کیا ہے

عروج زیدی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم