برستا مینہ کوئی محشر دکھا رہا ہے مجھے
وسیب خون کے آنسو رُلا رہا ہے مجھے
مرے وسیب کی سب وادیاں اجڑ چکی ہیں
اُدھڑتے لاشے کا چہرہ بتا رہا ہے مجھے
یہ سیلِ آب بھی لیتا ہے امتحان مرا
شکستہ پائی کا دکھ بھی سٙتا رہا ہے مجھے
وہ منہدم سا جو گھر آ رہا ہے منظر میں
کسی غریب کا نوحہ سُنا رہا ہے مجھے
نکل چکے ہیں مسائل بھی دسترس سے مری
یہ میں نہیں مرا لہجہ جتا رہا ہے مجھے
مہوش اشرف