MOJ E SUKHAN

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں
خود کو بھیگی ہوئی راتوں میں اکیلا سمجھوں

نام لکھوں میں ترا دور خلاؤں میں کہیں
اور ہر لفظ کو پھر چاند سے پیارا سمجھوں

یاد کی جھیل میں جب عکس نظر آئے ترا
آنکھ سے اشک بھی ٹپکے تو ستارا سمجھوں

دستکیں دیتا رہا رات جو گلیوں میں اسے
ذہن آوارہ کہوں نیند کا مارا سمجھوں

وہ جو آ جائیں مرے پاس تو ان کو فرحتؔ
دکھ کی بڑھتی ہوئی بارات کا دولہا سمجھوں

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم