Din Aysay youn to Aayee hi kab thwy jo Raas They
غزل
دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے
لیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے
ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیں
کل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے
وہ گل بھی زہر خند کی شبنم سے اٹ گئے
جو شاخسار درد محبت کی آس تھے
میری برہنگی پہ ہنسے ہیں وہ لوگ بھی
مشہور شہر بھر میں جو ننگ لباس تھے
اک لفظ بھی نہ میری صفائی میں کہہ سکے
وہ سارے مہرباں جو مرے آس پاس تھے
تیرا تو صرف نام ہی تھا تو ہے کیوں ملول
باعث مرے جنوں کا تو میرے حواس تھے
وہ رنگ بھی اڑے جو نظر میں نہ تھے کبھی
وہ خواب بھی لٹے جو قرین قیاس تھے
ظہور نظر
Zahoor Nazar