MOJ E SUKHAN

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

Din Aysay youn to Aayee hi kab thwy jo Raas They

غزل

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے
لیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے

ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیں
کل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے

وہ گل بھی زہر‌ خند کی شبنم سے اٹ گئے
جو شاخسار درد محبت کی آس تھے

میری برہنگی پہ ہنسے ہیں وہ لوگ بھی
مشہور شہر بھر میں جو ننگ‌ لباس تھے

اک لفظ بھی نہ میری صفائی میں کہہ سکے
وہ سارے مہرباں جو مرے آس پاس تھے

تیرا تو صرف نام ہی تھا تو ہے کیوں ملول
باعث مرے جنوں کا تو میرے حواس تھے

وہ رنگ بھی اڑے جو نظر میں نہ تھے کبھی
وہ خواب بھی لٹے جو قرین قیاس تھے

ظہور نظر

Zahoor Nazar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم