MOJ E SUKHAN

جمال یار اور اس کا بیاں محبت ہے

غزل

جمال یار اور اس کا بیاں محبت ہے
حسین شام کا دل کش سماں محبت ہے

ہمیں گلہ ہے کہ تم نے ہمیں نہیں روکا
تمہیں خبر تھی کہ آتش فشاں محبت ہے

عمل نہ ہو تو یقیں کس طرح دلاؤ گے
زباں سے کتنا بھی کہہ لو کہ ہاں محبت ہے

وہ اور لوگ ہیں جو دشمنی نبھاتے ہیں
مرے لیے تو یہ سارا جہاں محبت ہے

ہمارے گاؤں کی برفیلی سرد صبحوں میں
سنائی دیتی ہے جو وہ اذاں محبت ہے

وفا کی آخری تمثیل کربلا ہے دوست
سر حسین بہ نوک سناں محبت ہے

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم