MOJ E SUKHAN

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں

غزل

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں
آنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میں

فطرت اداس سی ہے گھٹائیں ہیں سوگوار
اک غم نصیب حسن ہے ابر بہار میں

ہے ذرہ ذرہ شوق سماعت سے بے قرار
تم گنگنا رہے ہو کسی آبشار میں

ساون کی رت بہار کا موسم اندھیری رات
رم جھم کے گیت گونج رہے ہیں پھوار میں

سپنوں میں ہو گیا ہے سویرا کہیں مجھے
بیٹھا ہوا ہوں جیسے کسی لالہ زار میں

ایسا لگا کہ ساتھ ہی گاتے ہیں آبشار
کیا موہنی سی لے ہے تمہارے ستار میں

کیوں آج سر جھکائے ہوئے رو رہے ہو تم
بکھرے ہوئے ہیں بال غم و انتشار میں

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم