MOJ E SUKHAN

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے
ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے

سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے
بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے

غریب شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے
امیر شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے

سروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادر
اترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے

وہ ایک شخص کہ جو فتح کا سمندر تھا
اسی کے حصے میں آئے سراب زخموں کے

کھلیں گے نخل تمنا کی ٹہنی ٹہنی پر
لہو کی سرخیاں لے کر گلاب زخموں کے

سجا کے رکھوں گا محراب دل میں اے نیرؔ
بہت عزیز ہیں مجھ کو گلاب زخموں کے

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم