MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے

غزل

چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے
مگر میری تو شاخ آشیاں کچھ اور کہتی ہے

نظر میں اس کی یوں تو سب کی ہی رفتار ہے لیکن
مرے قدموں سے گرد کارواں کچھ اور کہتی ہے

یہاں کا ذرہ ذرہ محشر غم ہے حقیقت میں
بظاہر رونق بزم جہاں کچھ اور کہتی ہے

ہے ان کی ہی نظر آئینۂ دیر و حرم لیکن
یہاں کچھ اور کہتی ہے وہاں کچھ اور کہتی ہے

کسی دن ساتھ چھٹ جانے کا خطرہ ہے اسے شاید
ترے غم سے میری عمر رواں کچھ اور کہتی ہے

یہی تم کو یقیں کیوں ہے کہ کوئی التجا ہوگی
سنو تو میری چشم خونفشاں کچھ اور کہتی ہے

مجھے اپنی صداقت پر بھی شک ہے اس زمانے میں
کہ دل کچھ اور کہتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

جہاں میں گو نہیں آثار کچھ ایسے قیامت کے
مگر گمراہیٔ اہل جہاں کچھ اور کہتی ہے

کبھی کیفؔ اس کا لوہا مانتے تھے لکھنؤ والے
مگر اب اہل دہلی کی زباں کچھ اور کہتی ہے

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم