MOJ E SUKHAN

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

غزل

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا
وہ اپنے گھر سے کبھی میرے گھر بھی آئے گا

بچھڑتے وقت کا منظر بھی دھیان میں رکھنا
سفر میں کام یہ رخت سفر بھی آئے گا

نکل تو آئے ہیں زندان تیرگی سے مگر
یہ سوچتے ہیں ہمیں کچھ نظر بھی آئے گا

سبھی نہ گھر کے دریچوں سے بچ کے گزریں گے
ہوا کا کوئی تو جھونکا ادھر بھی آئے گا

ملال سایۂ دیوار و در ابھی سے کیا
یہ مرحلہ تو سر رہ گزر بھی آئے گا

مری نوا تو کبھی رائیگاں نہیں جاتی
اگر وہ گھر میں ہوا بام پر بھی آئے گا

کسے گمان تھا خاورؔ وہاں کی مٹی میں
یہاں کی آب و ہوا کا اثر بھی آئے گا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم