MOJ E SUKHAN

اک وقت میں پھولوں کے بڑے ٹھاٹھ رہے ہیں

اک وقت میں پھولوں کے بڑے ٹھاٹھ رہے ہیں
سوکھے تو ہواؤں کے تلے چاٹ رہے ہیں

پچھتائیں گے اک روز کڑی دھوپ پڑی تو
جو لوگ محبت کے شجر کاٹ رہے ہیں

پیا سوں کو کھلے ملتے ہیں دروازے ہمارے
ہم پچھلے جنم میں بھی کوئی گھاٹ رہے ہیں

جس سمت بھی ہو جائیں وہ جھک جاتے ہیں پلڑے
کچھ لوگ ترازو کے سدا باٹ رہے ہیں

آسان نہیں ہوتی بڑے لوگوں سے یاری
قالین بھی ہوں گے تو فقط ٹاٹ رھے ہیں

انداز محبت کے نرا لے ہیں کسی کے
ہفتے میں لڑائی کے بھی دن آٹھ رہے ہیں

آیا ہے کوئی تیسرا پھر بیچ ہمارے
ہم برسوں تو خوش باش تھے فٹ فاٹ رہے ہیں

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم