Dastaar Hay Sir Per mry Ashufta sari ki
غزل
دستار ہے سر پر مرے آشفتہ سری کی
سو فکر نہیں مجھ کو مرے یار کسی کی
تنہائی کی آنکھوں میں حسیں خواب سجا کر
قرطاس پہ ہم نے بھی عجب فتنہ گری کی
آتے ہیں دکھانے کے لیے خواب تماشے
آنکھوں سے اسی خوف میں یہ نیند بری کی
آئی نہیں پتھراگئیں تنہائی کی آنکھیں
توقیر سسکتی رہی سوئم کی دری کی
اے دل ترے قدموں میں رکھوں کیسے میں آنکھیں
جب ان میں ہے اٹکی ہوئی جاں سوختنی کی
پیوست مری روح میں ہوتے ہیں کئی تیر
بھولے سے اگر درد کی تصویر کشی کی
خود سے بھی نہیں ملتا شرف ملنے کا مجھ کو
اے دل یہ سزا ہے مری بے راہ روی کی
اس وقت مری آنکھیں ہوئیں عکسِ فراتی
جب بات بہتر کی چلی تشنہ لبی کی
رہنے دو ابھی داد کے پرکیف یہ تحفے
اس وقت ضرورت ہے مجھے نادِ علی کی
ایسے نہیں منسوب ہوئی موجِ نسیمی
کاٹی ہے سزا اس کے لیے تیرہ شبی کی
نسیم شیخ
Naseem Shaikh