MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے
جس طرح کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے

ڈھونڈا کوئی ساتھی جو کبھی دشت وفا میں
اک اپنا ہی سایہ مجھے ہر بار ملا ہے

سینے میں ہے محفوظ متاع غم دوراں
دیباچئہ ایام مرے دل پہ لکھا ہے

آہٹ سی شب غم جو تجھے دی ہے سنائی
اے دل وہ ترے اپنے دھڑکنے کی صدا ہے

ہو خیر چراغان سر راہ گزر کی
سنتے ہیں بہت تیز زمانے کی ہوا ہے

یک رنگ کہاں ہوتی ہے انسان کی فطرت
ہر پھول کی خوشبو ہے الگ رنگ جدا ہے

مغرور نہ ہو حسن پہ اے شمع فروزاں
پروانے کی آنکھوں میں کوئی اور ضیا ہے

نیند آتی ہے یزدانیٔ مضطر کو سکوں سے
یہ موت ہے یا دوست کے دامن کی ہوا ہے

جالندھری یزدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم