MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خیر سے اب ہے وہاں آپ کا بیمار کہ بس

غزل

خیر سے اب ہے وہاں آپ کا بیمار کہ بس
اس قدر دیر لگا دی مرے سرکار کہ بس

سیر ہوتا ہی نہیں ذوق تماشا لیکن
مجھ سے کہتی ہے مری جرأت دیدار کہ بس

ہجر کے نام پہ بھی وصل کے عنوان سے بھی
عشق نے اتنے دئے ہیں مجھے آزار کہ بس

کس قدر تھی وہ نظر آئنہ کردار نہ پوچھ
اس قدر چور ہوا ہے بت پندار کہ بس

نہ غم دل کے ہی بس کے نہ غم دوراں کے
اتنے آزاد ہوئے تیرے گرفتار کہ بس

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم