دو چار دنوں سے یونہی بےکار پڑے ہیں
یوں ساکت و جامد ہیں کہ کہسار پڑے ہیں
آنا ہے تو آجاؤ مجھے دید ملے گی
اس دید کی خاطر ہی تو بیمار پڑے ہیں
کیا نام تمہارا ہو یہاں راہِ سخن میں
اک ایک سے بڑھ کر یہاں فنکار پڑے ہیں
اس قوم کا رب ایک مگر تف ہے مرے دوست
جیبوں میں تو پتھر کے ہی اوتار پڑے ہیں
نیکی پہ تکبر کیا ان لوگوں نے مہتاب
جو راہوں میں بن بن کے گنہگار پڑے ہی
ماہتاب دستی