MOJ E SUKHAN

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
ہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ

ہوتا ہے یوں بھی راستہ، کھلتا نہیں کہیں
جنگل سا پھیل جاتا ہے کھویا ہوا سا کچھ

ساحل کی گیلی ریت پہ بچوں کے کھیل سا
ہر لمحہ مجھ میں بنتا بکھرتا ہوا سا کچھ

فرصت نے آج گھر کو سجایا کچھ اس طرح
ہر شے سے مسکراتا ہے روتا ہوا سا کچھ

دھندلی سی ایک یاد، کسی قبر کا دیا
اور میرے آس پاس چمکتا ہوا سا کچھ

ندا فاضلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم