MOJ E SUKHAN

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی

زندگی میری زندگی تھی کبھی

بارشوں پر مری نہ جاؤ تم

آگ اندر کہیں لگی تھی کبھی

یاد کر کے میں ہنس رہی ہوں آج

میں بھی تیرے لیے دکھی تھی کبھی

وہ بھی دن تھے کہ میں یہی دنیا

تیری آنکھوں سے دیکھتی تھی کبھی

یاد ہوگا ابھی تلک تجھ کو

میں بھی تیری ہی زندگی تھی کبھی

مجھ کو قائل نہ کر دلیلوں سے

میں بھی تقدیر سے لڑی تھی کبھی

اب کبھی مڑ کے دیکھتی ہی نہیں

دل کی دہلیز پہ کھڑی تھی کبھ

تیرے پہلو میں جی رہی تھی کبھی
زندگی میری زندگی تھی کبھی

بارشوں پر مری نہ جاؤ تم
آگ اندر کہیں لگی تھی کبھی

یاد کر کے میں ہنس رہی ہوں آج
میں بھی تیرے لیے دکھی تھی کبھی

وہ بھی دن تھے کہ میں یہی دنیا
تیری آنکھوں سے دیکھتی تھی کبھی

یاد ہوگا ابھی تلک تجھ کو
میں بھی تیری ہی زندگی تھی کبھی

مجھ کو قائل نہ کر دلیلوں سے
میں بھی تقدیر سے لڑی تھی کبھی

اب کبھی مڑ کے دیکھتی ہی نہیں
دل کی دہلیز پہ کھڑی تھی کبھی

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم