MOJ E SUKHAN

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم
رات سے اتنی سہولت بھی نہیں مانگتے ہم

دشمن شہر کو آگے نہیں بڑھنے دیتے
اور کوئی تمغۂ جرأت بھی نہیں مانگتے ہم

سنگ کو شیشہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں
اور اس کام کی اجرت بھی نہیں مانگتے ہم

کسی دیوار کے سائے میں ٹھہر لینے دے
دھوپ سے اتنی رعایت بھی نہیں مانگتے ہم

ساری دستاروں پہ دھبے ہیں لہو کے اظہرؔ
ایسے کوفے میں تو عزت بھی نہیں مانگتے ہم

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم