MOJ E SUKHAN

کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے

غزل

کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے
وفا آزمانے کو جی چاہتا ہے

اٹھایا تھا جس بزم سے ہم کو اک دن
وہیں پھر بھی جانے کو جی چاہتا ہے

ہوئے مندمل زخم دل میرے لیکن
نئے زخم کھانے کو جی چاہتا ہے

مآل محبت سمجھتا ہوں پھر بھی
کہیں دل لگانے کو جی چاہتا ہے

ہیں کیسے مزے کے ترے جھوٹے وعدے
کہ پھر دھوکہ کھانے کو جی چاہتا ہے

وہ پھر آج کچھ ہم سے روٹھے ہوئے ہیں
انہیں پھر منانے کو جی چاہتا ہے

ہے مدت سے سونی مرے دل کی محفل
تمہیں سے سجانے کو جی چاہتا ہے

جو روشن ہیں محفل میں عقل و خرد سے
وہ شمعیں بجھانے کو جی چاہتا ہے

جو سوئے ہوئے دل میں ہلچل مچا دے
وہ طوفاں اٹھانے کو جی چاہتا ہے

حبیبؔ آگ بھر دیں جو سینے میں سب کے
وہ نغمے سنانے کو جی چاہتا ہے

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم