MOJ E SUKHAN

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے

روشنی سے کس طرح پردا کریں گے
آخر شب سوچتے ہیں کیا کریں گے

وہ سنہری دھوپ اب چھت پر نہیں ہے
ہم بھی آئینے کو اب اندھا کریں گے

جسم کے اندر جو سورج تپ رہا ہے
خون بن جائے تو پھر ٹھنڈا کریں گے

گھر سے وہ نکلے تو بس اسٹینڈ تک ہی
اس کا سایہ بن کے ہم پیچھا کریں گے

آنکھ پتھرا جائے گی یہ جانتے ہیں
پھر بھی اس منظر میں ہم کھویا کریں گے

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم