MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہارے حسن کو تصویر بام کر دیں گے

غزل

تمہارے حسن کو تصویر بام کر دیں گے
غزل پہ آئے تو مطلع میں کام کر دیں گے

مخالفین کا سب انتظام کر دیں گے
نہ مانے لوگ تو وہ قتل عام کر دیں گے

ہمارے سامنے مت کر گھمنڈ حکومت کا
ابھی ذرا میں تجھے بے مقام کر دیں گے

بڑھاؤ تیز قدم منزلیں بلاتی ہیں
یہ راہ بر ہیں یہ رستے میں شام کر دیں گے

ہم اور کیا نئی پیڑھی کو دیں وراثت میں
جو دل میں زخم ہیں بچوں کے نام کر دیں گے

شراب پیتے ہی غم اور بھی ابھر آئے
چلے تھے درد کو تحلیل جام کر دیں گے

نیازؔ لکھ کے ہم اس کی مخالفت میں غزل
قلم کو قابل صد احترام کر دیں گے

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم