MOJ E SUKHAN

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم

غزل

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم
اور لب پہ اک سکوت سجائے ہوئے ہیں ہم

جو آشنا نہیں ہیں محبت کی آنچ سے
کیوں آس ان سے پھر بھی لگائے ہوئے ہیں ہم

شعلے جو بجھ چکے ہیں انہیں تم ہوا نہ دو
دل میں ہی ایک آگ لگائے ہوئے ہیں ہم

توبہ رے ان کی سنگ دلی اور شوق دید
کیا خوب حال اپنا بنائے ہوئے ہیں ہم

کہنے کو دور ہم سے بہت دور وہ سہی
پر فاصلے دلوں کے مٹائے ہوئے ہیں ہم

جاتے ہیں دے کے وہ تو صباؔ رت خزاؤں کی
دل کے چمن تو پھر بھی کھلائے ہوئے ہیں ہم

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم