MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں

دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں
تیرے خلاف چل پڑے ایسا قلم نہیں

اس زندگی کو دینا ہے جب زندگی کا نام
آگے بڑھا کے پیچھے ہٹاتے قدم نہیں

تن پر سجائے پھرتی ہوں ملبوس درد کا
کیسے کہوں کے دل میں کوئی میرے غم نہیں

کاٹے ہیں کس طرح سے ترے بن یہ روز و شب
یہ داستانِ غم بھی تو ہوتی رقم نہیں

اس سے کہو کے کھینچ لے جور و جفا کے ہاتھ
ظلم و ستم کو سہنے کا اب مجھ میں دم نہیں

چارہ گری سے تیری امڈ آئے ہیں یہ اشک
ورنہ یہ چشمِ بینا کبھی ہوتی نم نہیں

مدت کے بعد ہم کو یہ احساس ہو گیا
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں

چاہت نے تیری حوصلہ ایسا دیا مجھے
خوابوں میں کوئی تیرے علاوہ صنم نہیں

آگاہ کرتا مجھ کو جو حالات سے ترے
اس بزم میں شمیم کوئی جامِ جم نہیں

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم