MOJ E SUKHAN

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے
زعم باطل میں تاجور بھٹکے

خود سری میں جو معتبر بھٹکے
ہم سفر ان کے بے خبر بھٹکے

فن کی پگڈنڈیوں پہ چلتے ہوئے
کبھی بھٹکے تو بے ہنر بھٹکے

ہم جو بھٹکے تو نا شناسا تھے
راہبر کیوں ادھر ادھر بھٹکے

ایک عالم کو جس نے بھٹکایا
کبھی یوں ہو کہ وہ نظر بھٹکے

اپنی منزل کا علم ہوتے ہوئے
پھر بھی ہم جان بوجھ کر بھٹکے

زندگی کے لباس خستہ میں
دھوپ میں ہم برہنہ سر بھٹکے

کس میں ہمت تھی ہم کو بھٹکاتا
اپنی خواہش پہ عمر بھر بھٹکے

ہائے اس گل بدن کی حسرت میں
یوں بھٹکنا نہ تھا مگر بھٹکے

اس کو بھی پا سکے نہیں فرحتؔ
جس کی خواہش میں در بدر بھٹکے

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم