MOJ E SUKHAN

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا
تو حسرتوں نے ادب سے مجھے سلام کیا

کہاں کہاں نہ نظر نے تمہاری کام کیا
اتر کے دل میں امیدوں کا قتل عام کیا

غموں کے دور میں ہنس کر جو پی گئے آنسو
تو آنے والی مسرت نے احترام کیا

یہ کس نے چن کے مسرت کے پھول دامن سے
غموں کا بوجھ مری زندگی کے نام کیا

مبینؔ گلشن ہستی میں آگ بھڑکی ہے
جنون شوق نے کیا خوب اپنا کام کیا

سید مبین علوی خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم