MOJ E SUKHAN

: طنز و مزاح ” ادبی کلینک ” تحریر محسن نقی

: طنز و مزاح ” ادبی کلینک "

تحریر

محسن نقی

کراچی کے ایک بڑے بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک دکان کے اوپر بورڈ ” ادبی کلینک” لکھا ہوا نظر آیا ، بورڈ ” ادبی کلینک” کے دائیں بائیں لکھا تھا ادبی نشستوں ، مشاعروں ، کتاب رونمائی, اعزازی تقریبات ، تعزیتی ریفرنس ، منعقد کرنے کے لیئے ہماری خدمات حاصل کریں ، نئے شعراء و شاعرات کو کم قیمت پر انقلابی ، قومی ، پیارو محبت ، کے اشعار دیئے جاتے ہیں ، آپ بیشک عقل سے کورے ہوں ، ہم آپکے زہن کی عمدگی سے عقلی قلعی کریں گے کہ آپ بڑے بڑے مشاعروں ، عالمی مشاعروں اور ادبی نشستوں کی ضرورت بن جائیں گے ۔
میں یہ سب پڑھ کر دکان کے اندر چلا گیا ، اندر ایک سراپا ادبی شخصیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے صاحب نظر آئے ان سے سلام کے بعد اپنا تعارف بطور رپورٹر ، فوٹوگرافر کروایا ، جواب میں کہنے لگے جی میں نے آپکو تقریبات میں دیکھا ہے ، میں نے کہا باہر دکان کے جو بورڈ پر لکھا ہے وہ درست ہے فرمانے لگے جی بالکل درست ہے ، اور یہ کام شروع سے ہوتا آیا ہے بس اب میڈیا اور سوشل میڈیا سے نظروں میں اب آنے لگا ہے ، میں نے کہا کہ آپکا نام کیا ہے ؟ فرمانے لگے مُجھے ” خاطر نقب پکڑ دھکڑوی” کہتے ہیں ، میں نے کہا بزرگوں نے یہی نام رکھا تھا کہنے لگے نہیں وہ تو بڑا عزت والا اچھا سا نام تھا مگر جب ہوش سنبھالا تو اپنی غیر معمولی مشکوک صلاحیتوں سے میرے دوست اور چاہنے والے مجھے ” خاطر پکڑ دھکڑوی” کے نام سے پکارنے لگے اور سچ یہ ہے کہ میں بھی اپنا پرانا نام بھول چکا ہوں ، دراصل ہر ایک کی ٹھیک ٹھاک خاطر کرنے اور ہر ایک پر نقب لگانے اور پھر پکڑ دھکڑ کے چکر چلنے سے یہ نام پڑا ، میں نے کہا کیا کیا بیچتے ہیں ؟ فرمانے لگے ، رومانس سے بھرپور اشعار ، انقلابی اشعار ، بس ، رکشہ ، ٹرک پر لکھے اشعار سیاسی اشعار سب کچھ بیچتے ہیں ، میں نے کہا خود تخلیق کرتے ہیں ؟ فرمانے لگے ، نہیں ہر شہر ، ہر ڈسٹرکٹ میں ہمارے نمائندے ہیں جو یہ مواد بیچنے پر مجبور ہیں ، میں نے کہا کیا مجبوری ہے ؟ فرمانے لگے اچھے قابل شعراء کو لوگ نہیں بلواتے اکثریت ان شعراء و شاعرات کی ہو رہی ہے جو پیسہ دے کر مشاعرہ پڑھتے ہیں ، صدارت ، مہمان خصوصی ، مہمان اعزازی ، مہمان توقیری تک پیسے دے کر عزت کمائی جا رہی ہے ، اب جو اصلی گمنام شاعر ہیں جو بڑھاپے میں غربت سے لڑ رہے ہیں وہ اپنے معاشی حالات سے تنگ آ کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں ، میں نے کہا کہ اس کے علاوہ کیا کیا ہو رہا ہے ؟ کہنے لگے جب سے ادبی تقریبات میں تشدد کی وزنی لہر آئی ہے، ہم نے ” ادبی ہیلمٹ” متعارف کروایا ہے، خواتین اور مرد حضرات دونوں کے لیئے ” بلٹ پروف جیکٹ” متعارف کروائی ہے، اس کے علاوہ ” ادبی باکسنگ گلوز” متعارف کروائے ہیں اس کے علاوہ ” ادبی ویٹ مشین” بھی ہے ، جو شاعر کا کلام کہنے سے پہلے اور کلام کہنے کے بعد کام آتی ہے اس ادبی ویٹ مشین سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کا کلام کتنا وزن دار یا ہلکا ہے، اس کے علاوہ ہماری ” ادبی لیبارٹریز” خون اور دیگر ٹیسٹ کرتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کون کون خاندانی ، حادثاتی ، یا بدمعاشی کی پیداوار ہے ، ہمارے ٹیلر ماسٹر ” ادبی لباس” تیار کر رہے ہیں ، ہمارے زلف تراش مشہور شعراء کے اسٹائل والے بال بنا رہے ہیں ، ہم خواتین و حضرات شعراء کے لیئے خوبصورت ہر طرح کی ” ادبی وگ” بھی تیار کر کے دیتے ہیں ، اس کے علاوہ ہر ڈسٹرکٹ میں ” ادبی کراٹے سینٹر” کھول رہے ہیں جہان نن چاقو بھی چلانے کی تربیت خواتین و حضرات کو دی جائے گی ، میں نے کہا کوئی تحریری یا تصاویری ریکارڈ دکھانا پسند کریں گے ؟ کہنے لگے دکان کے اندر اگلے پورشن میں میرے ساتھ تشریف لے آئیں میں ان کے ساتھ ساتھ چل دیا ۔
اگلے پورشن میں دیوار پر فریم میں لگے پورٹریٹ نظر آئے ، پہلے پورٹریٹ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کو تو دیکھا ہو گا یہ زیادہ تر ہر ادبی و ثقافتی تقریب میں نظامت کرتے نظر آتے ہیں ، بظاہر شکل سے افغانی لگتے ہیں ، مگر نظامت کرنے کے شوق میں اس قدر خوش ہیں کہ ان کا پیٹ قابو سے باہر ہے ، بجلی ، گیس کے بل بھرنے کی لائن میں جب کھڑے ہوتے ہیں تو پوری لائن میں جھگڑا شروع ہو جاتا ہے جب یہ سانس کھینچتے ہیں تو لائن پیچھے سرکتی ہے ، اور جب سانس باہر نکالتے ہیں تو لائن آگے بڑھ جاتی ہے ، کئی بینک مینیجر نے ان سے کہا ہے کہ اپنا پیٹ گھر رکھ کر آیا کریں ۔
اگلے پورٹریٹ پر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ پکے گہرے رنگ کے شاعر اور صحافی ہیں ، مگر مشاعروں میں جی بھر کر اپنا کلام سنانے کا اصرار کرتے ہیں ، اور ان کا کلام سنانے کا انداز ” عجب کلام کی غضب کہانی” ہوتا ہے ، یہ کلام سناتے ہوئے بہت گرجدار آواز میں دھاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ، دونوں ہاتھ کبھی اوپر کبھی نیچے اور کبھی آسمان کی طرف گرجتے برستے ہیں اور سامعین کو مولا جٹ اور نوری نت یاد آ جاتے ہیں ان کے چنگھاڑتے ہوئے انداز سے منتظم اور میزبان گھبرا کر نظامت کار کو اشارہ کرتے ہیں کہ خدا کے واسطے اس کو روسٹرم سے اتارو ورنہ یہ ہماری عزت اتار دے گا ۔
اگلے پورٹریٹ پر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک مہذب ادبی و ثقافتی شخصیت ہیں نہ شاعر ، نہ افسانہ نگار ، نہ ناول نگار ، مگر روزانہ ہی ہر ہونے والی تقریبات میں نظر آتے ہیں اور صرف زندگی کا ایک ہی شوق رکھتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ تصاویر بنوائیں ، مگر بہت تعلیم یافتہ اور مہزب ہونے کی وجہ سے خواتین بھی ان کی بہت عزت کرتی ہیں یہ خواتین کے ساتھ تصاویر بنواتے ہی غائب ہو جاتے ہیں جیسے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے ۔
اگلی پورٹریٹ میں پانچ چھ افراد نظر آ رہے تھے ، ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ریٹائرڈ افراد کی ٹولی ہے جو ادبی تقریبات میں سامعین کی کمی کو پورا کرنے کے لیئے بلائے جاتے ہیں ، ان میں ایک دو افراد رنگین مزاج بھی رکھتے ہیں ، مگر بڑھتی عمر کے تقاضے اور تقریبات میں چھیڑ چھاڑ کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دور دور سے نیاگرا فال کا دیدار کرتے ہیں اور تقریب کے اختتام پر اپنی ناکام حسرتوں کے ساتھ واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں اور اپنے اپنے اینٹوں کے بھٹے پر سو جاتے ہیں ۔
اگلی پورٹریٹ میں ایک خوب صورت ادبی شخصیت نظر آ رہی تھی ، ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہ شاعر ہیں نہ افسانہ نگار ، مگر تعلقات سے کبھی نظامت کار بنتے ہیں کبھی مہمان خصوصی ، اور کبھی ادبی شخصیات کو گلدستہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یہ آئسکریم چاکلیٹی کون جیسے ہیں اپنی جیمز بانڈ جیسی شخصیت اور تھری پیس سوٹ سے اپنا بھرم رکھے ہوئے ہیں ۔
میں نے کہا کوئی خواتین کا ریکارڈ بھی ہے ، سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کرنے لگے کہنے لگے آہستہ آہستہ کہا کریں ، ڈریں اس وقت سے جب کوئی ادبی بھینسا دیوار توڑ کر دکان میں داخل ہو کر حملہ کر دے ، اس وقت میں اور آپ لال کپڑا لہراتے رہ جائیں گے ۔
میں نے کہا پھر بھی کچھ تو ریکارڈ میں ہوگا ، کہنے لگے چلیں میں گھٹری سے نکالتا ہوں ، ایک خوبصورت شخصیت کی پورٹریٹ نکالی اور فرمانے لگے یہ ایک معتبر شاعرہ ہیں ، نئ شاعرات کو ہم ان کے پیچھے چلنے کا کہتے ہیں تا کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ بھی ادب میں بڑا مقام پا لیں ، اچانک کہنے لگے بچپن میں آپ نے ایچ، بی کی پینسل استعمال کی تھی ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں شارپنر سے تراشتے تھے ، کہنے لگے کیسی ہوتی تھی ؟ میں نے کہا بہت مضبوط ہوتی تھی ، فرمانے لگے اس شاعرہ کو بھی خالق نے بڑی فرصت میں تراشا ہے ، یہ بھی مضبوط شخصیت ہے ، دیکھنے میں میزائل کی طرح ہے مگر ادبی دنیا میں اس جیسا میزائل شاید ہی ہو ۔
اس کے بعد انہوں نے جب اگلا پورٹریٹ نکالا تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی ، میرا چہرہ خوف سے تر ہوتا دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے ادبی دنیا میں فوٹوگرافی اور رپورٹنگ کے دوران زلزلے کا سامنا کرنے کا بھی حوصلہ رکھیئے ، میں نے کہا اللہ یہ برا وقت کسی فوٹوگرافر یا رپورٹر پر نہ لائے ، کہنے لگے پورٹریٹ تو دیکھ لیں میں نے کہا جناب میں کمزور دل کا آدمی ہوں آپ یہ پورٹریٹ ہالی ووڈ بھیج دیں وہاں کسی کو ڈسکوری چینلز یا نیشنل جیوگرافک چینلز کو ان کی ضرورت ہوئی تو بلوا لیں گے آپکے بھی دلدر دور ہو جائیں گے ، یہ کہ کر پلٹا ، تو آواز لگائی چائے نہیں پیئیں گے ؟ میں نے کہا آپ نے تو "خیالی جمال گھوٹہ "دے دیا ہے پہلے جا کر اسپغول کھاؤں گا اچھا اجازت دیجیئے پھر آؤں گا یہ کہہ کر واپس چلا آیا
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین

ایک طوائف کا خط

کرشن چندر مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ

شاعری کیا ہے

تحریر اشہر اشرف عموماً جب ہم ادب کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد تحریری یا کتابی ادب سے ہوتی