MOJ E SUKHAN

ظالم کو دوں دعائیں میں خوش ہوں رقیب سے

ظالم کو دوں دعائیں میں خوش ہوں رقیب سے
ملتا ہے پیار پیسہ یہ عزت نصیب سے

دل خوش کرے گا چاند پہ کیچڑ اچھال کر
کچھ بن نہیں پڑے گا جو دشمن غریب سے

شاید مری تلاش میں ھے کوئی سانحہ
کچھ دن سے آ رھے ہیں جو سپنے عجیب سے

ہم لوگ بے حسی کے پرانے مریض ہیں
جن کا علاج پیر نہ ہوگا طبیب سے

اک عمر جنکی ذات سے مرعوب میں رہی
چہرے بگڑ گئے ذرا دیکھا قریب سے

پہلے قدم پہ خوف تھا وہم و گمان تھے
پھر کھینچتے ہی لے گئے رستے مہیب سے

علم و ادب کی آبرو دولت نے لوٹ لی
امید یہ نہ تھی کسی شاعر ادیب سے

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم