MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے
ایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتے

اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی
اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

پاس آ جائیں تو بے نوری مقدر ٹھہرے
دور بھی اتنے ستارے نہیں اچھے لگتے

اپنی گمنامی کے صحراؤں میں خوش رہتی ہوں
اب مجھے شہر تمہارے نہیں اچھے لگتے

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم