MOJ E SUKHAN

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا

غزل

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا
تم کو خود سے کبھی ملنا ہو تو ہم سے ملنا

قابل دید ہیں سب زخم ہمارے دل کے
آپ کو شوق تماشا ہو تو ہم سے ملنا

سایۂ گل میں ملاقات رہے گی تم سے
موسم گل میں جو تنہا ہو تو ہم سے ملنا

بے سبب ہم بھی کسی سے نہیں ملتے صاحب
تم بھی ملنے کی تمنا ہو تو ہم سے ملنا

وعدۂ وصل تو لیتے نہیں تم سے لیکن
اتفاقاً ادھر آنا ہو تو ہم سے ملنا

اپنی آنکھوں کے لئے خواب کہاں فرقت میں
خواب تم نے کوئی دیکھا ہو تو ہم سے ملنا

اپنا در سب پہ کھلا ہے کوئی اپنا ہو کہ غیر
کسی درویش سے ملنا ہو تو ہم سے ملنا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم