MOJ E SUKHAN

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار
میں گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار

کس کی روح تعاقب میں ہے سائے کے مانند
آتی ہے نزدیک سے اکثر خوشبو کی جھنکار

تیرے سامنے بیٹھا ہوں آنکھوں میں اشک لیے
میرے تیرے بیچ ہو جیسے شیشے کی دیوار

میرے باہر اتنی ہی مربوط ہے بے ربطی
میرے اندر کی دنیا ہے جتنی پر اسرار

بند آنکھوں میں کانپ رہے ہیں جگنو جگنو خواب
سر پر جھول رہی ہے کیسی نادیدہ تلوار

شبنم رومانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم