MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی

غزل

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی
تیری الفت میں اذیت ہی سہی

درد کو درد نہ جب تو سمجھے
بد گمانی تری عادت ہی سہی

دل مہجور میں ارمان وصال
نہ سہی دید کی حسرت ہی سہی

بت کدہ چھوڑنے والے تو نہ تھے
خیر ملتی ہے تو جنت ہی سہی

دل کو تھا خاک میں ملنا سو ملا
دیکھنے والوں کو عبرت ہی سہی

اس ستم گار نے کر لی توبہ
اے فلک ہاں کوئی آفت ہی سہی

کوئی جلوہ نظر آئے شاید
ٹکٹکی بندھنے کی عادت ہی سہی

ہیں کسی جلوے کی آنکھیں مشتاق
کچھ کم و بیش یہ غفلت ہی سہی

عشق کی بولتی تصویر ہے شوقؔ
دیکھنے والوں کو حیرت ہی سہی

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم