تحریر شمسہ نجم
حسنِ شاعری کیا ہے؟ کمالِ شاعری کیا ہے؟
مقدمہ شعرو شاعری میں مولانا الطاف حسین حالی کے مطابق شاعری کے لیے یہ شرائط ضروری ہیں۔
وزن
قافیہ و ردیف
تخیل
کائنات کا مطالعہ
تفحص الفاظ
حالی کے کہنا ہے کہ وزن اور بحر شاعری کے لیے اہم ہے۔۔شاعر کا جتنا "تخیل بلند” ہو گا شعر کا معیار اسی قدر بلند ہو گا۔ "کائنات کا مطالعہ” سے ان کی مراد جزئیات نگاری اور منظر نگاری ہے۔ یعنی اس طرح منظر کشی کی جائے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کو نظر انداز نہ کیا جائے۔اور دنیا کے وسیع موضوعات کو شعروں میں پرویا جائے اور "تفحص الفاظ” یعنی مناسب بلکہ بہترین الفاظ کا استعمال جو شعر کے ابلاغ کو خوبصورت بنا دے۔
اس کے علاوہ حالی کہتے ہیں کہ "قافیہ بھی وزن کی طرح شعر کا حسن بڑھا دیتا ہے۔ جس سے کہ اس کا سننا کانوں کو نہایت خوشگوار معلوم ہوتا ہے اور اس کے پڑھنے سے زبان زیادہ لذت پاتی ہے”۔ (حالی مقدمہ شعروشاعری)
انجمن ترقی اردو پاکستان کے زیر اہتمام علامہ اقبال کی 139ویں سالگرہ کے حوالے سے مذاکرے میں ڈاکٹر نعمان الحق نے ’’آقبال کی بازیافت‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا۔
"علامہ اقبال کے شعری محاسن حیران کردیتے ہیں۔ ان کے شعر کا آہنگ، بحرین اور زبان ایک عجیب کارنامہ ہیں جنہیں ادا کرکے صوتی بازگشت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں کمال کی بحریں استعمال کی ہیں”۔اقبال کی شاعری کو پڑھ کر احساس جاگتا ہے اقبال کی شاعری میں آہنگ و صوت، بحر یعنی وزن، اور زبان یعنی خوبصورت اور دیدہ زیب الفاظ کا استعمال اور تخیل کی بلندی نے جو حسن پیدا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
شاعری کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ اس کے کچھ ضروری لوازمات بھی ہیں۔ ایک شعر کے دو عناصر اہم ہیں ایک وزن اور دوسرا خیال۔ اس کے علاوہ کئی ایسے عناصر کو بھی شعر کا حسن سمجھا جاتا ہے جو ایک شعر کی زیبائش بڑھاتے ہیں۔ انہیں شاعری کی صنعتیں بھی کہا جاتا ہے۔ اعلی پائے کی شاعری ان صنعتوں سے بہرہ ور ہوئے بغیر معیاری تخلیق کے پیمانے پر پوری نہیں اترتی۔ صنعتیں بے شمار ہیں ان میں سے چند اہم صنعتوں کے بارے میں ان کی افادیت کے پیش نظر ایک شاعر کا جاننا بہت ضروری ہے۔
- تخیل
انسان کی قوت متخیلہ جہاں تخلیقات کا سبب بنتی ہے وہاں ان کا معیار اور مقام بھی متعین کرتی ہے۔ جتنا تخیل بلند ہو گا شعر کا معیار اسی قدر بلند ہو گا۔ بلند تخیل عمیق مطالعے، علم اور گہرے مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن عموما یہ انسان کو پیدائشی ودیعت ہوتا ہے۔
حالی اپنی کتاب مقدمہ شعروشاعری میں کہتے ہیں ” قوت متخیلہ یا تخیل جس کو انگریزی میں امیجینیشن کہتے ہیں۔ یہ قوت جس قدر شاعر میں اعلیٰ درجے کی ہو گی اسی قدر اس کی شاعری اعلیٰ درجے کی ہوگی اور جس قدر ادنیٰ درجے کی ہو گی اسی قدر اس کی شاعری ادنیٰ ہوگی”۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے خیال جتنا حقیقت سے قریب ہوتا ہے اتنا ہی وہ قیمتی اور بلند ہوتا ہے۔ حقیقی شاعری میں خدا کی واحدانیت کو بیان کرنا تخیل کی معراج ہے۔ عمدہ تخیل شعر کو حیات جاوداں بخشتا ہے۔
قطرے میں دجلہ دکھائی دے اور جز میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا
تخیل کی بلندی شعر کا معیار بلند کرتی ہے اور،شاعر کے مقام کا تعین کرتی ہے۔تخیل کی پرواز شہ پارے تخلیق کرواتی ہے۔
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جام جم سے میرا جام سفال اچھا ہے
تخیل کے سبب شعر کی قدروقیمت مقرر ہوتی ہے۔یہ تخیل کا کمال ہی ہے کہ درج ذیل شعر آج بھی زبان زد عام ہے۔
ان کے آنے سے جو آجاتی ہے رونق منہ پر
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے (غالب)
میں جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ( اقبال)
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کر ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
ادب سے متعلق نئے مضامین
محاسنِ شاعری
تحریر شمسہ نجم حسنِ شاعری کیا ہے؟ کمالِ شاعری کیا ہے؟ مقدمہ شعرو شاعری میں مولانا الطاف حسین حالی کے
اردو شاعری میں خمریات آل احمد سرور
اردو شاعری میں خمریات آل احمد سرور شعر و ادب میں شراب کا ذکر اس کثرت سے کیوں ہوتا ہے
فکر اقبال اور ہم
تحریر و تحقیق۔ ڈاکٹر دانش عزیز ’’ فکر‘‘ کے معنی سوچ بچار ، عاقبت اندیشی، اِضطراب ، پریشانی کے لئے
مرزا اسد اللہ خاں غالب کا فن سخن
موج سخن تحقیقی ڈیسک غالب کی سوانح جس زمانے میں مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹمار ہا تھا اور مشرقی
تحدیثِ نعمت- نعت کے تخلیقی زاویے
ریاض حسین چودھری دہلیز مصطفیٰؐ سے احساس کا رزقِ شعور زندگی کے ریگ زاروں میں تنہا کھڑا ہوں، سوا نیزے
*رومانوی، وجودی اور مارکسی انتقاد کے تحت نظم* *”مجھ سے پہلی سی محبت” کا جائزہ*
*رومانوی، وجودی اور مارکسی انتقاد کے تحت نظم* *”مجھ سے پہلی سی محبت” کا جاٸزہ* تحریر آصف علی آصف فیض
وزیر آغا کی ایک طویل نظم ’’آدھی صدی کے بعد ‘‘ ایک تنقیدی مطالعہ
خیرالابرار ڈاکٹر وزیر آغا ایک دبستان تھے ، ایک عہدساز شخصیت تھے، کردار ساز تھے۔ اگرچہ مادی طور پر ان
اقبال اور جرمن فلسفہ عمران شاہد بھنڈر
اقبال اور جرمن فلسفہ عمران شاہد بھنڈر ہر فلسفی کا اپنا ایک فلسفیانہ نظام ہوتا ہے، جس میں حسیات، مقولات