::::: مشاعرہ مر رہا ہے:::::
یہ مضمون ہر وہ شخص پڑھے جو کسی بھی ادبی تقریب کا انعقاد کرتا ہے ۔ یا خاص طور پر مشاعرے کا اہتمام کرتا ہے یا ادب سے تعلق رکھتا ہے یا پھر صاحبِ ذوق ہے
احباب !
مشاعرہ مر رہا ہے
اس کا اصطلاحی اور فکری ، مطلب ہے کہ شعر و سخن کی روایت، اس کا اصل معیار، سنجیدگی اور ادبی روح ختم ہو رہی ہے۔
کیا کچھ عرصہ بعد مشاعرے بھی ختم ہو جائیں گے؟؟
مشاعرے کی خوبصورت روایت مسلسل زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ مشاعروں کا بدلتا مزاج اور بے وزن شاعری کا بڑھتا ہوا چلن عام ہوتا جارہا ہے۔
احباب یہ مضمون میں بہت افسوس اور دکھ کی حالت میں لکھ رہا ہوں ۔ اور کچھ خدشات ہیں جو اہلِ علم و ادب کے سامنے رکھنے ہیں ۔۔
مشاعرہ صرف چند شعراء کے ایک جگہ جمع ہو کر اشعار سنانے کا نام نہیں؛ یہ اردو زبان و ادب کی ایک ایسی باوقار روایت ہے جس میں شاعر اپنی تخلیقی صلاحیت، فکری پختگی، زبان پر گرفت اور فنی ریاضت کے ساتھ سامعین کے سامنے آتا ہے۔ مشاعرہ دراصل شاعر اور سامع کے درمیان ایک ادبی مکالمہ ہوتا ہے، جہاں لفظ صرف ادا نہیں ہوتے بلکہ اپنے آہنگ، موسیقیت، معنی اور تاثیر کے ساتھ دل و دماغ میں اترتے ہیں۔
مگر افسوس کہ آج کے بعض مشاعروں میں اس روایت کا وقار تیزی سے مجروح ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ خصوصاً ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو شاعری کے بنیادی فنی تقاضوں سے بے خبر ہونے کے باوجود خود کو شاعر سمجھتے ہیں اور مشاعروں کے اسٹیج پر اچھل کود کرکے ایسے کلام کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں جس میں نہ وزن کا اہتمام ہوتا ہے، نہ بحر کی پابندی، نہ زبان کی صحت اور نہ شعری نزاکتوں کا لحاظ ۔ جیسے شعر نہیں سنا رہے بلکہ کرتب کر رہے ہیں ۔ اچھے شعراء بھی موجود ہیں مگر ایک ہی نشست میں وہ یہ کیسے گوارا کر لیتے ہیں کہ اپنے سامنے مسخروں کو کرتب کرتا دیکھیں ۔ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ مشاعرے کی عزت و ،وقار کا خیال رکھیں ۔
شعر تو عطا ہے ۔ شعر کا نزول ایک رحمتِ خداوندی ہے ۔ شعر کی گہرائی ،گیرائی ۔معنی آفرینی خیال کی بنت و وسعت ۔ شعر کی جہتیں (Dimensions) اور پرتیں (Layers) وہ عمیق عناصر ہیں جو ایک عام جملے کو شاعری کا درجہ دیتے ہیں۔ شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک کثیر الجہتی فن ہے جہاں ایک ہی شعر اپنے اندر کئی معنی اور دنیائیں چھپائے رکھتا ہے۔
ایک وقت تھا جب ہمارے اسٹیج ڈرامے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ اسٹیج کے فنکار اسٹیج کو عزت دیتے تھے ۔ ڈرامہ دیکھنے فیملیز آتیں تھیں ۔ ہر ڈرامے کہ بعد ایک معاشرتی برائی پر طنز اور اختتام سبق آموز ہوتا تھا ۔ بعد ازاں ذومعنی جملوں میں فحش گوئی کا اظہار کیا جانے لگا ۔ پھر ہم سب جانتے ہیں کہ سٹیج ڈراموں میں فحش گوئی کا کھلے عام آغاز ہوا اور اس کے بعد حالات یہ ہیں کہ وہاں سنجیدہ فہم والے افراد نہیں جاتے تو ہم معاشرے کو سیکھا کیا رہے ہیں ۔۔۔
احباب !
شاعری محض چند خوب صورت الفاظ کو ایک خاص ترتیب سے لکھ دینے کا نام نہیں۔ نثر اور شعر میں بنیادی فرق ہی آہنگ، موسیقیت، وزن اور شعری ساخت کا ہے۔
شاعری شوق سے نہیں، ریاضت سے پیدا ہوتی ہے
شاعری کا شوق ایک نعمت ہے، مگر صرف شوق شاعر نہیں بناتا۔ ایک شخص اگر موسیقی سے محبت کرتا ہو تو محض محبت کی بنیاد پر اسے موسیقار نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح مصوری پسند کرنے والا ہر شخص مصور نہیں بن جاتا۔ شاعری بھی ایک فن ہے اور ہر فن کی طرح اس کے بھی اپنے اصول، تقاضے اور مسلسل ریاضت کا مرحلہ ہے۔
مجبوب خزاں کا ایک شعر ہے کہ
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
اچھا شاعر برسوں زبان پڑھتا ہے، بڑے شعراء کو سمجھتا ہے، عروض سے واقف ہوتا ہے، بحور کا مزاج پہچانتا ہے، لفظ کے درست استعمال پر غور کرتا ہے اور اپنے شعر کو بار بار تراشتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایک معمولی سی لفظی لغزش بھی شعر کی روانی، معنویت اور تاثیر کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کے برعکس آج بعض حلقوں میں یہ تصور فروغ پا رہا ہے کہ دل میں کوئی خیال آیا، اسے دو چار مصرعوں میں لکھا، چند مشکل الفاظ شامل کیے اور اسے شعر قرار دے دیا۔ یہ رویہ شاعری کی خدمت نہیں بلکہ شاعری کے فن کو سطحی بنانے کا سبب بن رہا ہے ۔
بے وزن کلام کو جدیدیت کا نام دینا بھی مسئلے کا حل نہیں
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر وہ کلام جو روایتی غزل کے وزن میں نہ ہو، لازماً ناقص نہیں۔ آزاد نظم، نثری نظم اور جدید شعری تجربات اپنی الگ شعری روایت، ساخت اور فنی اصول رکھتے ہیں۔ مسئلہ تجربے کا نہیں، فنی شعور کے فقدان کا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ شاعر جو کچھ پیش کر رہا ہے، کیا وہ شعوری فنی انتخاب ہے یا محض فنی لاعلمی؟
مشاعرہ داد کا نہیں، معیار کا بھی نام ہے
مشاعروں کی ایک بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ یہاں سامعین صرف تالیاں بجانے والے لوگ نہیں ہوتے تھے؛ وہ شعر کو پرکھتے بھی تھے۔ شعر اچھا ہوتا تو داد ملتی، کمزور ہوتا تو خاموشی اختیار کی جاتی، اور کبھی کبھی کسی شعر پر اعتراض بھی ہوتا۔
آج صورتحال بدل رہی ہے۔ بعض اوقات داد شعر کی خوبی سے زیادہ شاعر کی مقبولیت، تعلقات، گروہی وابستگی یا اسٹیج کی مصنوعی گرم جوشی کا نتیجہ بن جاتی ہے۔ نتیجتاً شاعر کو اپنے کلام کی کمزوری کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
اور ایک بڑا مسئلہ جس پر میں تمام سینیئرز کی توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔وہ یہ ہے کہ آج کل کچھ ایسے شعراء بھی نمودار ہو چکے ہیں ۔جو اچھل کود کر کے شعروں میں فحش گوئی کا سہارا لے کر شعر کو وائرل کرنے کے چکر میں شعری روایت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا کم از کم سنجیدہ لکھنے والے تو بائیکاٹ کر سکتے ہیں ۔ یا پھر ہم آنے والی نسلوں کو یہ تہذیبی فکر دے کر جائیں گے؟ جو آج کل یونیورسٹیز کالجز میں مشاعرے کے نام پر منعقد ہورہا ہے۔
جب فحش گوئی پر واہ واہ ہو، ہر مصرعے پر تالیاں بجیں اور ہر شخص کو شاعر کہہ کر پیش کیا جائے تو پھر اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
داد اگر اصلاح کے بغیر ہو تو کبھی کبھی فن کی خدمت نہیں کرتی، فن کو نقصان پہنچاتی ہے۔
مشاعرے کے منتظمین کی ذمہ داری یہاں بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسٹیج پر شاعر بلانا صرف تعداد پوری کرنا نہیں۔ مشاعرہ ایک ادبی ادارہ ہے اور اس ادارے کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔
سینئر شعراء اور منتظمین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
اگر کوئی نو آموز شاعر شعر کہنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے روکنا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، مگر حوصلہ افزائی اور غیر مشروط پذیرائی میں فرق ہے۔
احباب
یہ تحریر کسی کی تضحیک نہیں بلکہ ہماری ادبی روایت کے مستقبل کی حفاظت ہے۔میں اپنے عہد میں ایسے مشاعروں کا انعقاد دیکھ رہا ہوں جہاں یہ سب خرافات سنائی جارہی ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مشاعروں میں ایسے شعراء کو بھی جگہ دی جائے جو نئی نسل کی رہنمائی کر سکیں۔ عروض، زبان اور شعری محاسن پر گفتگو ہو۔
ورنہ مشاعرے سنجیدہ سامعین سے محروم ہو جائیں گےاور یہ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ہے۔
جو لوگ برسوں سے اردو شاعری پڑھتے آئے ہیں، میر، غالب، اقبال، فیض، جگر، فراق، ناصر اور دوسرے اساتذہ کے کلام سے اپنا ذوق بناتے رہے ہیں، وہ جب مشاعرے میں مسلسل کمزور، بے وزن یا غیر سنجیدہ کلام سنتے رہیں گے تو رفتہ رفتہ مشاعرے سے دور ہونے لگیں گے ۔اور جب سنجیدہ سامعین ہال سے غائب ہو جائیں تو مشاعرہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
مشاعرہ صرف شاعر کا پلیٹ فارم نہیں؛ سامع بھی اس کا برابر کا فریق ہے۔
ایک اچھا سامع شاعر کو بناتا بھی ہے اور سنوارتا بھی ہے۔ اسے اچھے شعر کی پہچان ہوتی ہے، وہ خاموشی سے کمزور شعر کو رد بھی کر دیتا ہے اور ایک عمدہ شعر پر ایسی داد دیتا ہے جو شاعر کے لیے برسوں کا سرمایہ بن جاتی ہے۔
اگر مشاعرے صرف شور، تالیاں، مائیک اور سوشل میڈیا کی ویڈیوز تک محدود ہو گئے تو پھر وہ ادبی محفلیں نہیں رہیں گے بلکہ محض نمائشی اجتماعات بن کر رہ جائیں گے۔
ہمیں نئے شعراء نہیں، نئے معیارات سے خوف ہے
نئے شاعر آتے رہیں، یہی تو ادب کی زندگی ہے۔مگر وہ اپنے خیالات کی بنت کیا کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے ۔۔
مسئلہ نوجوان یا نئے لکھنے والوں کا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم معیار اور تربیت کے درمیان تعلق توڑ چکے ہیں ۔
نئے شاعر ضرور آئیں، لیکن وہ مطالعہ بھی کریں۔
نئے تجربات ضرور ہوں، لیکن فنی شعور کے ساتھ ہوں۔
نئی آوازیں ضرور ابھریں، لیکن پرانی روایت کو سمجھے بغیر اسے رد نہ کریں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مشاعرے میں جگہ صرف تعلق، شہرت یا شور کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلام کے معیار کی بنیاد پر ملنی چاہیے۔
اجباب!
اردو شاعری ایک عظیم تہذیبی اور ادبی ورثہ ہے۔ اسے محض اس لیے معمولی نہیں بنایا جا سکتا کہ ہر شخص کو شاعر کہنے میں ہمیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔
کسی کو شاعر کہنے سے پہلے اس کے شعر کو شعر ہونے کا حق دینا ہوگا۔
ہمیں نئے لکھنے والوں کے خلاف نہیں ہونا، بے علمی کو فن کا متبادل بنانے کے خلاف ہونا ہے۔
ہمیں نئی آوازوں کو خاموش نہیں کرنا، بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ جب وہ مشاعرے کے اسٹیج پر آئیں تو ان کے شعر پر داد بھی ہو اور اہلِ فن کا سر بھی ،فخر سے بلند ہو۔ یہ نا ہو کہ کسی فحش گوئی پر سنجیدہ لکھنے والا آنکھیں چرائے ۔۔
مشاعرے کی رونق صرف بھرے ہوئے ہال سے نہیں ہوتی؛ اس کی اصل رونق اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسٹیج پر شعر ہو، سامعین میں ذوق ہو، لفظ میں تاثیر ہو اور پورے ماحول پر ادب کی سنجیدگی اور وقار چھایا ہوا ہو۔
خدارا مشاعروں کو صرف "پروگرام” نہ بنائیے۔
انہیں مشاعرہ ہی رہنے دیجیے۔ مشاعرے کی عزت کیجے ۔ ادب سے محبت کیجے ۔
کیونکہ جب شعر کا معیار گرتا ہے تو
پورا ادبی ذوق متاثر ہوتا ہے۔
اور جس دن سنجیدہ سامع نے مشاعرے سے منہ موڑ لیا، اس دن اسٹیج تو باقی رہ جائے گا، مگر مشاعرے کی روح باقی نہیں رہے گی۔
آخر میں میں ، ایک بار پھر مشاعرے کا اہتمام کرنے والے تمام احباب سے گزارش کررہا ہوں کے خدا کے لئے ۔۔
مشاعرے کو مرنے مت دیں
خاص طور پر سکول کالج یونیورسٹیز کی سطح پر ایسے مشاعرے منعقد کروائیں ۔ جن میں معیاری شاعری پیش کی جائے ۔۔
ورنہ میں آنے والے وقت میں مشاعرے کا زاول دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔
(مشاعرے کی صحت کے لئے دعا گو
)
مبشر سلیم بشر
بانی و صدر ادبی، سماجی تنظیم سوچ
راولپنڈی/ پاکستان