MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

منظومات ۔۔۔۔:۔ سیدہ منور جہاں زیدی تحریر و تحقیق۔۔۔۔۔۔ :۔ الیاس اسد

منظومات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :۔ سیدہ منور جہاں زیدی
تحریر و تحقیق۔۔۔۔۔۔ :۔ الیاس اسد
سیدہ منور جہاں زیدی کی نظموں میں عشق کا تانا بانا روایت ، تجربے اور کشف سے مل کر بنا ہے جو شاعری کے لئے جذبہ اور تخیل لازم و ملزوم ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں ان کی شاعری میں منصئہ شہود پر نظر آتی ہیں ۔ یہ عشق حسن فطرت سے ہو ، اپنی ذات سے ہو یا پھر نسائی وجود سے ہو سیدہ منور جہاں منور کے تمام موضوعات کی دلکشی جذبہ محبت کی دین ہے ۔ یہ جذبہ داخلیت سے نمو پاتا ہے اور خارجیت کے منفرد پیکروں سے اپنی نمو اور دروں بینی کا غماز بن جاتا ہے ۔ داخل اور خارج کی یہ کشمکش جسم اور روح کے ملاپ سے بنتی ہے جہاں جسمانی کرب روح اور باطن کی سرشاری بن جاتا ہے ۔ سیدہ منور جہاں منور صاحبہ کے تصور عشق کی انفرادیت اور ارفعیت سے معنی آفرینی کی جو فضا بنتی ہے وہ جذبہ عشق کی ایسی تصویر پیش کرتی ہیں جو گیرائی اور گہرائی کے جاں گزیر تصور سے بھرپور مکمل اظہار بن جاتی ہے ۔
سیدہ منور جہاں منور صاحبہ کے ہاں محبوب کا احساس جمال فطرت کی رعنائیوں سے مہمیز ہوتا ہے ۔ حسن چاہیے فطرت کا ہو یا عورت کا جب تک اس کو فنکار کی نگاہ عشق نہیں چھوتی اس میں جان نہیں پڑتی ۔ پھر یہ ممکن ھی نہیں ہے کہ حسن سے اس قدر متاثر ھونے والی شاعرہ عشق کے اتنے ہی شدید تجربے سے نہ گذرے ۔ سیدہ منور جہاں منور کا انداز عشق اردو شاعری کے روائیتی عشق سے تو خیر بالکل مختلف ہے مگر اس عہد کا عشق ہوتے ہوئے بھی اس عشق کے مروجہ رومانس اور طرز محبت تک محدود نہیں ہے ۔ اس میں قدیم روحانی اور مذہبی ، گنگا جمنی روائیتوں کے اندرونی اثر نے آفاقیت پیدا کر دی ہے ۔ سیدہ منور جہاں منور صاحبہ کی جدت طبع کے باعث فطرت کے جمالیاتی پہلو محبوب کے حسن کو دو آتشہ کر دیتے ہیں ۔ ان کی نظموں میں تصور محبوب کی فطری اور جمالیاتی تصویر کشی ہوتی ہے ۔ محبتوں کا متلاشی وجود محبت کی قید میں رہ کر طمانیت محسوس کرتا ہے ۔ ان کے ہاں خیالات میں تنوع اور افکار میں گہرائی ہے جس کی وجہ سے ان کی نظم میں روائیتی انداز کی بجائے طرز جدید کا اثر و نفوذ دکھائی دیتا ہے اور ان کے یہاں محبت کا تصور ماورائی نہیں بلکہ حقائق زندگی اور گردشِ لیل ونہار کے اصلی رنگوں سے اس فلسفہ کو پیش کرنے کا جتن کرتے ہیں جس میں شاعرانہ حسن اور جمالیاتی کیف و بشاشت عیاں ہے ۔
سیدہ منور جہاں منور شاعرانہ رد عمل میں کشمکش حیات کے ساتھ نمو پانے والی دانائی کی تصویریں بھی سامنے لاتی ہیں ۔ اور ان کی شاعری کے رسیلے مصرعے زندگی کی رذم گاہ سے ابھرنے والے مکالموں سے امتزاج پیدا کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی نظموں میں شفاف زبان ، جمالیاتی اسلوب ، حسی ادراک اور لطیف رمز و ایمائیت کی اثر انگیزی ملتی ہے ۔
شعر کی زبان میں تغیر دو طرح سے لائے جاتے ہیں ۔ ایک تو نئے الفاظ و تراکیب کے استعمال سے دوسرے الفاظ کو نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے سے مگر سیدہ منور جہاں منور صاحبہ نے ان دونوں فنی حربوں سے شعری حسن کو نکھارا ہے اور جدید و نادر تمثالوں اور تشبیہات کو وسیلہ اظہار بنایا ہے شعری جہان نو کی تشکیل میں یہ محاکاتی تشبیہات ان کو دیگر ہم عصر شعراء و شاعرات سے ممیز کرتی ہیں ۔ یہ تشبیہات کثیر الجہتی نوعیت کی ہوں یا پھر عقلی اور حسی ہر دو طرح کی مثالیں ملتی ہیں ۔
سیدہ منور جہاں منور صاحبہ جدید شعری رویوں کی حامل شاعرہ ہیں ان کے ہاں نظموں کے موضوعات اور اسالیب کو برتنے کا انداز جداگانہ ہے ۔ ان کی نظموں کا مندرجہ بالا فنی و فکری تجزیہ ان کی گہری حسیت ، عمیق مشاہدے اور جدت طبع کا عکاس ہے ۔ مجموعی اعتبار سے نظموں کی غیر روایتی پیشکش اور نادر تمثالوں کا حسین امتزاج انہیں ھم عصر شعراء و شاعرات سے ممتاز کرتا ہے ۔ ان کی نظموں کے تجزئیے سے بخوبی عیاں ہے کہ یہ نظمیں محض وجود کی کتھا نہیں بنتیں بلکہ وجود سے فکری نمو پا کر عصری ، عمرانی اور جمالیاتی کیف کی عمدہ تصویر کشی کرتی ہیں سیدہ منور جہاں منور صاحبہ کی شخصیت ایک رحجان ساز شاعرہ کے طور پر ابھرتی ہے ۔
الیاس اسد
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین