MOJ E SUKHAN

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

غزل

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے
تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے

یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا
وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے

قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا
تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے

نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست
مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے

میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں نشاط قربت میں
مرے خیال سے بھی ماورا بھی ہو جائے

زمیں کی گود سے سورج نکالنے والو
ستارۂ سحری رہنما نہ ہو جائے

اب اور تا بہ کجا یہ حصار موسم درد
اب اس طرف بھی درود صبا نہ ہو جائے

حریم جاں میں ہے ارزاں خمار تیرہ شبی
یہ اس دیار کی آب و ہوا نہ ہو جائے

غم فراق میں لذت سہی مگر اسلمؔ
مری حیات مرا خوں بہا نہ ہو جائے

اسلم فرخی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم