MOJ E SUKHAN

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا

غزل

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا
میں نے جس چہرے کو دیکھا تیرے جیسا ہو گیا

چاند میں کیسے نظر آئے تری صورت مجھے
آندھیوں سے آسماں کا رنگ میلا ہو گیا

ایک میں ہی روشنی کے خواب کو ترسا نہیں
آج تو سورج بھی جب نکلا تو اندھا ہو گیا

یہ بھی شاید زندگی کی اک ادا ہے دوستو
جس کو ساتھی مل گیا وہ اور تنہا ہو گیا

ایک پتھر زندگی نے تاک کر مارا مجھے
چوٹ وہ کھائی کہ سارا جسم دوہرا ہو گیا

مل گیا مٹی میں جب افضلؔ تو یہ آئی صدا
گر گئی دیوار اور سایہ اکیلا ہو گیا

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم