MOJ E SUKHAN

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

غزل

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے
ابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے

اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے
مجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے

بہت خوش نما ہے گلستان عالم
مگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے

بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں
نہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے

کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گی
مئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے

خیالات میں اپنے ہوں غرق واعظ
مجھے کہنے سننے کی فرصت نہیں ہے

دکھاتے نہیں شرم سے روئے روشن
کوئی کامیابی کی صورت نہیں ہے

تزلزل میں کس واسطے ہے زمانہ
شب ہجر ہے یہ قیامت نہیں ہے

کہاں اے پری تو کہاں حور جنت
تری اس کی آپس میں نسبت نہیں ہے

مری قمریوں کے سوا کون انساں
یہ شمشاد ہے اس کی قامت نہیں ہے

وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھیں گے
وہ قامت بھی کم از قیامت نہیں ہے

نہ کیوں دل لگے یاں وہ ہے اور خلوت
یہ حورا نہیں ہے یہ جنت نہیں ہے

جفائیں نہ کیجے نہ کیجے نہ کیجے
تحمل کی اب مجھ کو طاقت نہیں ہے

تلاطم میں مصروف ہے قطرہ قطرہ
کوئی شے یہاں بے حقیقت نہیں ہے

جہاں تک بنے تم سے بیداد کر لو
اگر آنے والی قیامت نہیں ہے

لرزتا ہے کیوں ڈر سے اے جسم لاغر
یہ دھڑکا ہے دل کا قیامت نہیں ہے

حسینوں کی چاہت حسینوں کی الفت
مصیبت بھی ہے اور مصیبت نہیں ہے

تمہیں عاشق اور مجھ کو معشوق لاکھوں
یہاں آدمیوں کی قلت نہیں ہے

سنبھل کر ذرا ناز و اغماض کیجے
حسینوں کی دنیا میں قلت نہیں ہے

زمانہ میں ہونے کو سب کچھ ہے پرویںؔ
ہمیں کیا امید شفاعت نہیں ہے

پروین امِ مشتاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم