MOJ E SUKHAN

سکوت انتشار ہو گیا اگر

غزل

سکوت انتشار ہو گیا اگر
وجود بھی فرار ہو گیا اگر

لڑائ گر پہنچ گئ گھروں میں تو
محاذ رہگزار ہو گیا اگر

کسی کو ہم کلام نقد بیچ دیں
پہ عشق مستعار ہو گیا اگر

چراغ وہ جلائے تو نظر کھلے
چراغ بھی فرار ہو گیا اگر

یہ سوچ کے ہی انقلاب لائیے
یہ انقلاب دار ہو گیا اگر

برائے اشتہا گناہ کر تو لوں
خفا خیالِ یار ہو گیا اگر

دلیل کے خلاف مت جواز دیں
ثبوت تار تار ہو گیا اگر

طلب کو اتنی وسعتیں نہ دیجیئے
جنون بے شمار ہو گیا اگر

گیا ہے دل تو دل بغیر ہی رہیں
دماغ بھی فرار ہو گیا اگر

گناہ کا جواز مت بنائیے
گناہ بار بار ہو گیا اگر

یہ لیجئیے، محاذ بند کر دیا
ادھر سے کوئ وار ہو گیا اگر

میں کس کمائ سے ادا کروں گا قرض
جو رزق بھی ادھار ہو گیا اگر

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم