MOJ E SUKHAN

کس کا شعلہ جل رہا ہے شعلگی سے ماورا

غزل

کس کا شعلہ جل رہا ہے شعلگی سے ماورا
کون روشن ہے بھلا اس روشنی سے ماورا

جیتے جی تو کچھ نہیں دیکھا نظر سے ہاں مگر
حیرتیں ڈھونڈا کیے اس حیرتی سے ماورا

کون سا عالم ہے مالک تیرے عالم میں نہاں
کون سجدے میں چھپا ہے بندگی سے ماورا

کوئی تو بتلائے گا آگے کہاں مڑتی ہے راہ
کوئی تو ہوگی زمیں اس ملگجی سے ماورا

بات جینے کی ادا تک خوبصورت ہے مگر
زندگی کچھ اور ہے اس زندگی سے ماورا

خاک بستہ پھر رہا ہے کون سی بستی میں دل
کون آخر خستہ جاں ہے خستگی سے ماورا

اک نگر ترسا ہوا ہے اور صحرا ہے طویل
اور اک ندی ہے کوئی تشنگی سے ماورا

کب سے خالی ہاتھ ہے یاں ایک خلقت عشق کی
ہم بھی ہو جائیں گے ایک دن بے بسی سے ماورا

ان فراواں نعمتوں اور برکتوں کے باوجود
کوئی مفلس چل دیا ہے مفلسی سے ماورا

اپنی دنیا میں اگر پھیلی ہے تاریکی تو کیا
دن کہیں نکلا تو ہوگا تیرگی سے ماورا

احمد ہمیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم