MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رشک سےشہسواردیکھےگا

رشک سےشہسواردیکھےگا
راستہ بار بار دیکھے گا

کیسےمنظر ہزار دیکھےگا
جب افق کے وہ پار دیکھےگا

ہیں سوالی فقط اسی در کے
ہر زمانہ قطار دیکھے گا

بوجھ وہ بھی اچھال کر اک دن
زیست تن سے اتار دیکھے گا

درکھلا چھوڑ کر کیوں ایا ہے
گھر ترا انتظار دیکھے گا

ماں نہیں اب کھلےکواڑوں پر
اب کسے بے قرار دیکھے گا

ہے مصور کی خلق میں حیرت
مجھ سا کیا شاہکا ر دیکھے گا ؟

پیار میں مکر کےارادے سے
وہ مرا اعتبا ر دیکھے گا

روٹھے سر کو مناو۶ گے کیسے
کون خالی ستار دیکھے گا

اب سیاست کی تیرہ بختی میں
تو نیا انتشار دیکھے گا

راشد نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم